احمد پور شرقیہ بہاولپور۔۔۔ٹینکر بلاسٹ
جس ملک کے بڑے شہروں میں شوفر ڈریون کاروں سے اتر کر برانڈڈ کپڑوں کی دوکانوں میں داخل ہونے والی بیگمات سیل میں لگے سوٹوں کے لیے آپس میں دست و گریبان ہو سکتی ہیں ۔وہاں احمد پور شرقیہ جیسے دور افتادہ اور سہولتوں سے محروم علاقے میں زمین پر گرے مفت کے پیٹرول کے حصول کی کاوش کوئی اخلاقی جرم نہیں ۔ہماری بھوک معاشی حا لت نہیں ذہنی کیفیت ہے۔ اور اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ۔ہمیں ہمارے فرنگی آقاؤں نے جغرافیائی آزادی تو دیدی لیکن فکری آزادی ہم نے خود حاصل کرنا تھی ۔جو ہم آج تک نہیں کر پائے۔
مسائل متنوع الجہت ہیں۔ اگر ہم نے بحیثیت استاد اور والدین اپنے بچوں کی یہ تربیت کی ہوتی کہ میرا صرف وہ ہے جو میں محنت سے حاصل کروں اور زمین پر گری مفت کی چیز پر میرا کوئی حق نہیں تو بخدا یہ حادثہ اسقدر ہولناک نہ ہوتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ چند لیٹر مفت کے مٹی ملے پٹرول سے کسی کی زندگی نہیں بدلنا تھی کسی کی بھوک نہیں مٹنا تھی۔ یہ صرف ذہنوں کی بھوک ہے۔ اس کا علاج فقط توکل ہے جو تربیت سے آئیگا ۔ انشاءاللہ جب ہم یہ سیکھ لیں گے کہ میرا صرف وہ ہے جو میں محنت سے حاصل کروں صرف ایسے حادثات ہی نہیں پوری زندگی میں امن ہو جائیگا ۔رہا سوال حادثہ کی فنی پہلو کا، تو اس کے متعلق کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی کہ پیٹرول کے ہزاروں ٹینکرز روزانہ سڑکوں پر رواں ہوتے ہیں ۔ان کے ڈرائیوراور دیگر متعلقہ افراد کی سخت ذہنی اور جسمانی تربیت ہونی چاہئے تاکہ ان میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا مکمل صلاحیت ہو ۔اب بھی وقت ہے ہر شخص اور ہر ادارہ اپنا کام ایمانداری اور جانفشانی سے کرنے کا عہد کرے تو آئندہ ایسے المیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔
شُکریہ : عبدالوحید


Comments
Post a Comment