وہ خلیفہ نہیں بادشاہ تھے۔

وہ خلیفہ نہیں بادشاہ تھے!
شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر 15اکتوبر 1542کو عمر کوٹ (سندھ ) کے مقام پر پیدا ہوئے.اکبر اعظم نے اپنےپچاس سالہ دور حکومت میں ہندوستان کو دفاعی اعتبار سے ناقابل تسخیر اور معاشی طور پر خوشحال ترین ملک بنا دیا.اکبر بادشاہ نے “ستی“ جیسی ظالمانہ رسم کو ممنوع قرار دیا اور ہندو عورتوں کی دوبارہ شادی کا قانون بنایا.آگرہ اور دہلی کے شاہی دربار عملاً علمی اور فکری مجالس میں تبدیل ہو چکے تھے جن میں دنیا بھر سے اسکالرز اپنی تحقیق اورتجربات پیش کرتے تھے.شہنشاہ اکبر نے مذہبی رواداری’سماجی مساوات اور اچھی حکمرانی کے ذریعے برداشت اور باہمی احترام والا معاشرہ قائم کیا.
آج پاکستان میں ایک ہندو شخص چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچ جاتا ہے اور بھارت میں ایک مسلمان صدر بن سکتا ہے تو یہ وہی مذہبی برداشت ہے جس کی بنیادیں بر صغیر میں دور اندیش بادشاہ اکبر نے رکھی تھیں.
جلال الدین محمد اکبر ایک مسلمان بادشاہ تھے اسلامی خلیفہ نہیں تھے.انہیں بادشاہی کے ترازو میں ہی تولا جانا چاہئے.
مغل حکمرانوں کو اقتدار کسی نے بھیک میں نہیں دیا تھا انہوں نے تیغ زنی کے ذریعے حاصل کیا اور اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے اسے صدیوں تک برقرار رکھا.اکبر بادشاہ سب سے نمایاں رہے.اس عظیم مغل حکمران کو ٹائمز میگزین نے دنیا کے پچیس بڑے لوگوں میں شمار کیا ہے.
ہندوستان میں مذہبی ہم آہنگی کی اکبری خواہش کو دین الہی کے طور پر متعارف کرانے اور بادشاہ سلامت کو گمراہ کرنے والے خوشامدی علما اور مفاد پرست درباریوں کی سازش پھل پھول نہ سکی اور ان کی باطل کاریوں کو خود ‘ظل سبحانی’ نے ہی جھوٹ قرار دے دیا. حقیقت معلوم ہونے پر بادشاہ نے توبہ کی اور وہ صحیح العقیدہ مسلمان کے طور پر اس دنیا سے رخصت ہوئے.
انگریزوں کی متعصبانہ تحریروں اور مسخروں کی ڈرامہ سازیوں سے ہٹ کر اکبری دور کا جب بھی غیر جانبدارانہ تجزیہ ہو گا ہمیں آج کے جمہوری سماج میں بادشاہ سلامت جلال الدین محمد اکبر کے چھوڑے ہوئے فکروعمل کے گہرے نقوش دکھائی دیں گے.
پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ عظیم مغل قوم سے نسبت کے سبب پہچانے جاتے ہیں . جو دانشور تاریخ نگاری کے نام پر مغل بادشاہوں کی تضحیک کرتے ہیں وہ کروڑوں انسانوں کی دل آزاری کے مرتکب ہوتے ہیں .پاکستانی قوم کو یہ حقیقت بھی جان لینی چاہئے کہ تحریک قیام پاکستان کے دوران قائد اعظم کے پاس ایک مضبوط دلیل مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد بھی تھی.اسی تعداد نے مسلمانوں کو ہندوستان کی دوسری بڑی قوم بنایا اور اس تعداد کا بالواسطہ تعلق ساڑھے تین سو سالہ مغلیہ دور سے بھی ہے.اگر مغل حکمران کلمہ گو نہ ہوتے اور دینی حلقوں کو مغلوں کی سر پرستی حاصل نہ ہوتی تو ہندوستان میں اسلامی تہذیب و تمدن پوری قوت کے ساتھ پروان نہ چڑھتا اور دو قومی نظریہ کبھی عددی قوت حاصل نہ کر پاتا. اقلیتیں تو اور بھی تھیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک برار تھی.
جو لوگ شہنشاہ اکبر کو اپنی کم علمی کے باعث بے جا تنقید کا نشانہ بناتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ بادشاہ اکبر ہی تھے جنہوں نے مکہّ کے شریفوں کو بارہا مالی مدد بھجوائی اور سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ سلطان سلیمان کی خواہش پر پرتگیزیوں پر کاری ضرب لگائی.
ہمیں دشمنوں کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈہ سے متاثر ہوئے بغیر رعایا پرور حکمران کے ایصال ثواب کیلئے دعا کرنی چاہئے !
(بیگ راج /دیوان خاص)

Comments